سخاوت کی خوبیاں

0
140
Mehrban Foundation Islamabad سخاوت کی خوبیاں

سخاوت کی خوبیاں اور بخالت کی خرابیاں

تحریر : محمد ناصرؔ منیری
بانی و صدر منیری فاونڈیشن، دہلی

سخاوت افعال حسنہ اور صفات حمیدہ میں سے ایک انتہائی پسندیدہ عمل ہے، جو اللہ و رسول ﷺ کو بھی بہت عزیز ہے اور عند الناس بھی اس کا حامل قابل تعریف گردانا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس اس کی ضد یعنی بخالت و کنجوسی اللہ و رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے نزدیک بھی نا پسندیدہ عمل ہے۔ سخاوت کو اللہ پاک بہت پسند فرماتا ہے اور کنجوسی کو بہت ہی ناپسند کرتا ہے۔ اللہ پاک سخی کو جنت عطا فرمائے گا اور کنجوس کو جہنم میں بھیج دے گا۔ احادیث طیبہ میں سخاوت کی بہت فضیلت اور بخالت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے۔ ذیل میں احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے :

حدیث : 1

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ :
اَلسَّخِیُّ قَرِیْبٌ مِّنَ اللہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ قَرِیْبٌ مِّنَ النَّاسِ بَعِیْدٌ مِّنَ النَّارِ
وَالْبَخِیْلُ بَعِیْدٌ مِّنَ اللہِ بَعِیْدٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ بَعِیْدٌ مِّنَ النَّاسِ قَرِیْبٌ مِّنَ النَّارِ
وَالْجَاھِلُ السَّخِیُّ اَحَبُّ اِلیَ اللہِ مِنْ عَابِدٍ بَخِیْلٍ
(سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی السخاء، الحدیث۱۹۶۸، ج: ۳، ص:387)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
سخی! اللہ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، تمام لوگوں سے قریب ہے، جہنم سے دور ہے اور کنجوس! اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے،تمام لوگوں سے دور ہے، جہنم سے قریب ہے اور جاہل سخی عابد بخیل سے زیادہ اللہ کو پیارا ہے۔

حدیث:2

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ :
اَلسَّخَاءُ شَجَرَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ فَمَنْ کَانَ سَخِیًّا اَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْھَا فَلَمْ یَتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ وَالشُّحُّ شَجَرَۃٌ فِی النَّارِ فَمَنْ کَانَ شَحِیْحًا اَخَذَ بِغُضْنٍ مِنْھَا فَلَمْ یَتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی یُدْخِلَہ النَّارَ
(مشکاۃالمصابیح،کتاب الزکاۃ،باب الانفاق…الخ،الحدیث:۱۸۸۶،ج۱، ص۳۵۸)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
سخاوت جنت میں ایک درخت ہے، جو شخص (دنیا میں) سخی ہوگا وہ اس درخت کی ایک شاخ کو پکڑے گا تو وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑے گی یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کردے گی اور بخیلی جہنم میں ایک درخت ہے تو جو شخص (دنیا میں) بخیل ہوگا وہ اس درخت کی ایک شاخ پکڑے گا تو وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑے گی یہاں تک کہ اس کو دوزخ میں ڈال دے گی۔

حدیث:3

عَنْ اَبِیْ بَکْرِ نِ الصِّدِّیْقِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ خِبٌّ وَّلَا بَخِیْلٌ وَّلَا مَنَّانٌ۔ رواہ الترمذی
(مشکاۃالمصابیح،کتاب الزکاۃ،باب الانفاق…الخ،الحدیث:۱۸۷۳،ج۱، ص۳۵۵)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت میں کمینی خصلت والا اور کنجوس اوراحسان جتانے والا نہیں داخل ہوگا۔
(اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔)

مذکورہ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ “لُچے،کنجوس،احسان جتانے والے جنت میں داخل نہیں ہوں گے” اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ لوگ ان تینوں صفتوں کے ساتھ آلودہ رہیں گے جنت میں نہیں جائیں گے اور جب یہ لوگ بُری خصلتوں سے پاک ہوجائیں گے توجنت میں جائیں گے اور اِن بری خصلتوں سے پاک ہونے کی دو صورتیں ہیں یا تو مرنے سے پہلے ان بری خصلتوں سے سچی توبہ کرلیں یا یہ کہ جہنم میں یہ لوگ اپنے گناہوں کے برابر جل لیں بہرحال جب توبہ کرکے یا اپنے گناہوں کے برابر جہنم میں جل کراِن بری خصلتوں سے پاک ہوجائیں گے توپھر صاحب ایمان ہونے کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔

حدیث:4

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِیْ مُؤْمِنٍ اَلْبُخْلُ وَسُوْءُ الْخُلْقِ
(سنن الترمذی،کتاب البروالصلۃ،باب ماجاء فی البخل،الحدیث۱۹۶۹،ج۳، ص۳۸۷ (

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو خصلتیں مؤمن میں جمع نہیں ہوں گی کنجوسی اور بداخلاقی۔

اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ مؤمن میں کنجوسی اور بداخلاقی یہ دونوں بری خصلتیں بہ یک وقت جمع نہیں ہوں گی مؤمن اگر”کنجوس” ہوگا تو”بداخلاق” نہیں ہوگا اوراگر ”بداخلاق” ہوگا تو”کنجوس” نہیں ہوگا اور جس مسلمان کو دیکھو کہ کنجوس بھی ہے اور بداخلاق بھی تو اس حدیث کی روشنی میں یہ سمجھ لو کہ اس شخص کے ایمان میں کچھ نہ کچھ فتور ضرور ہے۔

مذکورہ احادیث طیبہ سے ظاہر ہے کہ سخاوت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند اور کنجوسی بہت ہی ناپسند ہے اور اللہ پاک سخی کو جنت عطا فرمائے گا اور کنجوس کو جہنم میں بھیج دے گا۔
بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنے بندوں کی سخاوت اور کنجوسی کا امتحان بھی لیا کرتا ہے اس لیے جب کوئی سائل دروازے پر آئے تو ہمیشہ اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں خدا کی طرف سے میرا امتحان تو نہیں ہورہا ہے۔ چناں چہ اس سلسلے میں یہاں اندھے، گنجے اور کوڑھی کے امتحان والی حدیث پیش کی جا رہی ہے جو بہت ہی عبرت خیز اور نصیحت آموز ہے۔

اندھے، گنجے اور کوڑھی کا امتحان

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
بنی اسرائیل کے تین آدمی ایک کوڑھی برص والا، دوسرا گنجا، تیسرا اندھا ، اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کے امتحان کا ارادہ فرمایا تو ان تینوں کے پاس ایک فرشتے کو بھیج دیا چناں چہ وہ فرشتہ سب سے پہلے برص والے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ دنیا میں تم کو سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ اچھا رنگ ، اچھی کھال اور میری یہ بیماری چلی جائے جس کی و جہ سے تمام لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے بدن پرہاتھ پھیردیا تو ایک دم اس کامرض دفع ہوگیااوراللہ تعالیٰ نے اس کوبہترین رنگ اوربہترین کھال عطا فرمادی پھرفرشتے نے اس سے پوچھا کہ تمھیں کون سا ساما ن پسند ہے؟ تو اس نے کہا کہ ”اونٹ” تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو ایک گابھن اونٹنی عطا کردی گئی اور فرشتہ یہ کہہ کر اس کے پاس سے چل دیا کہ اللہ پاک تمھیں برکت عطا فرمائے۔

پھر یہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور کہا کہ دنیا میں تمھیں سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے؟ اس نے کہا : حسین بال اور میری یہ بیماری چلی جائے جس کی و جہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے اوپر ہاتھ پھیرا تو دم زدن میں اس کی بیماری جاتی رہی اور اللہ پاک کی طرف سے اس کو نہایت ہی حسین بال عطا کردیے گئے۔ اس کے بعد فرشتے نے پوچھا : تمھیں کون سا مال پسند ہے؟ تو اس نے کہا : ”گاے”۔ پھر اسے ایک گابھن گاے عطا کردی گئی اور فرشتہ یہ کہہ کر چل دیا کہ اللہ تعالیٰ تمھیں برکت دے۔

اس کے بعد یہ فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ دنیا میں تم کو کون سی چیز سب سے زیادہ محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ بس یہی کہ اللہ تعالیٰ میری بینائی کو واپس عطا فرمادے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے اوپر ہاتھ پھر دیا توفوراً ہی بینا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔ پھر فرشتے نے کہا کہ تم کو کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ تو اس نے کہا کہ ”بکری” تو اس کو ایک گابھن بکری عطا کردی گئی پھر اونٹنی، گاے، بکری تینوں نے بچے دیئے اور ان میں اس قدر برکت ہوئی کہ کوڑھی کے پاس ایک میدان بھر کر اونٹ ہوگئے۔ اور گنجے کے پاس ایک میدان بھر کر” گائیں” ہوگئیں اور اندھے کے پاس ایک میدان بھر کر بکریاں ہوگئیں، پھر کچھ دنوں کے بعد یہی فرشتہ برص والے کوڑھی کے پاس اپنی اُسی شکل و صورت میں آیا جس شکل و صورت میں پہلی مرتبہ آیا تھا اور آکر اس نے کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اور میرے سفر کے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہیں اب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مجھے وطن پہنچانے والا نہیں ہے میں تم سے اس اللہ کے نام پر جس نے تمھیں اچھا رنگ اور خوبصورت چمڑا اور اونٹ کی دولت عطا کی ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں کہ اس کے ذریعے میں اپنا سفر تمام کرلوں۔ یہ سن کر کوڑھی نے جواب دیاکہ مجھ پر بہت سے حقوق ہیں(یعنی بہت سے لوگوں کو اور بہت سے کاموں میں دینا ہے) فرشتے نے کہا کہ میں تمھیں پہچانتا ہوں کیا تم کوڑھی نہیں تھے؟ تمہارے برص کی و جہ سے تمام لوگ تم سے نفرت اور گھن نہیں کرتے تھے؟ تم فقیر تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمھاری بیماری دور کرکے تمھیں مال عطا فرما دیا۔ یہ سن کر کوڑھی نے کہا کہ مجھے تو یہ مال اپنے بزرگوں سے میراث میں ملا ہے۔ فرشتے نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو تو اللہ تعالیٰ پھر تمھیں ویسا ہی کردے جیسے کہ تم پہلے تھے۔

پھر وہ فرشتہ اپنی صورت میں گنجے کے پاس آیا اور ویسے ہی سوال کیاجیسے کہ کوڑھی سے کیا تھا اور گنجے نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا تو فرشتہ اس کے پاس سے بھی یہی کہہ کر چل دیا کہ اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو اللہ تعالیٰ پھرتجھے ویسا ہی کردے جیسا کہ تو پہلے تھا۔

اس کے بعد یہ فرشتہ اپنی پہلی ہی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اورمسافرہوں میرے سفرکے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہیں اب اللہ کی مدد کے سوا میرے وطن پہنچنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے میں تم سے اُس اللہ کے نام پر جس نے دوبارہ تمھیں بینائی عطا کی ایک بکری مانگتا ہوں کہ اس کو میں اپنے وطن پہنچنے کا ذریعہ بناؤں، یہ سن کر اندھے نے کہا کہ جی میں تو اندھا تھا تو اللہ نے مجھے دوبارہ بینائی عطا فرمادی (تم نے اللہ کے نام پر سوال کیا ہے) تو اس میدان میں میری جتنی بکریاں ہیں ان میں سے جتنی چاہو تم لے جاؤ اور جتنی چاہو چھوڑ جاؤ خدا کی قسم! تم اللہ کے نام پر جتنی بھی لے لو گے میں تم سے اس کا مطالبہ کرکے تمھیں مشقت میں نہیں ڈالوں گا۔
یہ سن کر فرشتے نے کہا کہ تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو تم تینوں کا امتحان لیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہوگیا اور تمھارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوگیا۔
(صحیح البخاری،کتاب احادیث الانبیاء،باب حدیث ابرص…الخ، الحدیث۳۴۶۴، ج۲،ص۴۶۳)

گوشت پتھر ہو گیا

اسی طرح ایک دوسری حدیث بھی بہت ہی عبرت ناک اور رقت انگیز ہے جس کے راوی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ
اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی نے ہدیے میں ایک بوٹی گوشت بھیجا تو چوں کہ نبی ﷺ کوگوشت بہت پسند تھا اُم المؤمنین نے خادمہ سے کہا کہ اس گوشت کوگھرمیں رکھ دوشاید نبی ﷺ اسے کھائیں۔ چناں چہ خادمہ نے اس گوشت کو گھر کے طاق میں رکھ دیا اس کے بعد ایک سائل آیا اور دروازے پر یہ صدا لگائی کہ صدقہ دو اللہ تم گھر والوں کو برکت دے۔ یہ سن کر گھر والوں نے کہہ دیا : اے سائل! اللہ تمھیں برکت دے یہ سن کر سائل چلا گیا پھر اس کے بعد نبی ﷺ مکان میں داخل ہوئے اور فرمایا : اے اُمِ سلمہ! تمھارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے کہ میں اسے کھاؤں؟ تو حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے نوکرانی سے فرمایا کہ تم جاؤ اور رسول اللہ ﷺ کے لیے وہ گوشت لاؤ تونوکرانی گئی لیکن اس طاق میں اس کو ایک چکنے پتھر کے ٹکڑے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ملا اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے فقیر کو گھر میں گوشت ہوتے ہوئے نہیں دیا اور واپس لوٹا دیا تو وہ گوشت پتھر ہوگیا۔ اس حدیث کو امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں روایت فرمایا ہے۔
(مشکاۃالمصابیح،کتاب الزکاۃ،باب الانفاق…الخ،الحدیث:۱۸۸۰،ج۱، ص۳۵۷)

اخیر میں بارگاہ پروردگار میں دست بہ دعا ہوں کہ مولاے پاک اپنے محبوب پاک صاحب لولاک ﷺ کے طفیل ہم سب کو خوب خوب سخاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بخالت و کنجوسی سے بچنے کی توفیق بخشے۔ اور خصوصاً ہم خادمانِ امت کو زیادہ سے زیادہ خدمات دینیہ و علمیہ کی توفیق خیر مرحمت فرمائے۔
(آمین۔ بجاہ النبی الکریم علیہ اکرم الصلاۃ و افضل التسلیم)

Leave a Reply